نارمل سے ابنارمل (Normal to Abnormal)

Posted on March 11, 2020 / 2 Listing verified by admin as genuine
Listing Type : Blog
Location : Pakistan / Punjab / Sargodha

نارمل سے ابنارمل

زندگی بہت ہی حسین ہے اور اللہ کی دی ہوئی بہت بڑی نعمت ، مگریہ  انسان ازل سے نا شکرا ہی ٹھہرا۔

میں کیا ہوں؟ کیسی ہوں؟ قدرت نے مجھے کیا خوبیاں ؟ کیا صلاحیتیں دی ہیں۔ یہ سب مجھے آج معلوم نہ ہوتا اگر میں ان لوگوں سے نہ ملی ہوتی جو زندہ تو ہیں مگر زندگی  نہیں ہے انکے پاس، جو دیکھتے تو سب کچھ ہیں مگر پھر بھی کچھ دیکھ نہیں پاتے، کچھ سمجھ نہیں پاتے۔

جو کھاتےہیں ، پیتے ہیں، سوتےہیں، جاگتے ہیں، ہنستے ہیں، روتے ہیں،چلتے پھرتے ہیں، پھر بھی زندہ نہیں ہیں۔

وہ دن میری زندگی کا بہت ہی خاص دن تھا جب میں بہت پر جوش تھی کیونکہ زندگی میں پہلی بار کسی ٹرپ کے ساتھ جا رہی تھی۔ ہماری گاڑی نے Mental Hospital  کے سامنے بریک لگائی، تمام لڑکیاں پر جوش طریقے سے ہسپتال کے اندر داخل ہوئیں۔

مگر میری آنکھوں کیلئے سب نیا اور عجیب تھا ، میں نے سائیکالوجی پڑھی تو تھی مگر دیکھی کہیں نہیں۔

ہاں وہ ایک لڑکی جو بے حد خوبصورت  تو تھی ، مگر اس کے بکھرے ہوئے بال، پھیلی ہوئی پتلیاں اور  اس کے چہرے کی رنگت ۔۔ سب عجیب تھا۔اس کے چہرے پہ کسی قسم کے تاثرات نہیں تھے، نہ غم، نہ خوشی، نہ سکون اور نہ ہی بے سکونی۔

ایسی بہت سی خواتین تھیں جو ہر آنے والے کو یوں دیکھ رہی تھیں کہ جیسے کوئی خلائی مخلوق  ہوں ہم۔۔۔۔

پھر ہم مردوں کے وارڈ میں گئے جہاں بے حد خوبصورت ڈرائنگ ، ہاتھوں سے بنی ہوئی چیزیں  موجود تھیں جب اِدھر اُدھر مردوں کو دیکھا تو حیرانگی کی انتہا ہو گئی۔

سب لوگ اپنے اپنے کاموں  میں مشغول تھے، اور کام بھی ایسے  جو بظاہر کوئی کام نہ تھے۔

ایک نوجوان کھڑا ہو کے گراؤنڈ میں لیکچر دے رہا تھا جبکہ سامنے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔

ایک بوڑھا آدمی جو مسلسل اپنے آپ سے یوں باتیں کر رہا تھا کہ جیسے کوئی انسان اس کے سامنے ہو۔

ایک نوجوان بہت ہی خوبصورت آواز میں گانا گا رہا تھا ہمیں دیکھ کے رک گیا اور پوچھنے لگا کہ کیا آپ لوگ اتنی خوبصورت نعت پڑھ سکتیں ہیں؟

کیسی زندگی ہے انکی ؟جنہیں چیزوں کی ، کاموں کی،انکے درمیان  کے فرق کی تمیز نہیں ہے۔

اللہ نے سب کچھ دیا  انہیں،  وہ ہر کام ، ہر بات کر تے ہیں مگر کاموں کا ،  باتوں کا،  رشتوں کا شعور نہیں ہے۔

اللہ نے ہمیں شعور دیا ہے مگر ہمیں نہ ہی قدر ہے اور نہ ہی شکر ادا کرتے ہیں۔

خدا جب شعور چھین ہے لیتا تو کچھ بھی نہیں بچتا!

بچتا ہے تو بس ہمارا وجود  جو پتھر ہو چکا ہوتا ہے۔

                                                                                                                                               فوزیہ حیات رانجھہ

Features
Reviews
There are no reviews yet, why not be the first?
Leave a Review
You must be to post a review.